بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مکتب کے حفظ کرنے والے طالب کو مشق کے لیے فرائض میں امام بنانا

سوال

 کیا مکتب کے کسی ایسے طالب علم سے  جو جدید حافظ ہے یا کچھ پارے حفظ  كیے ہیں،  اس سے   برائے مشق فرض نمازوں میں امامت کروا سکتے  ہیں؟

جواب

امامت کے لیے (خواہ فرض نماز کی ہو، یا تراویح، یا نفل کی) اما م کا بالغ ہونا شرعًا ضروری ہے، نابالغ کی امامت نا بالغ کے حق میں تو درست ہوتی ہے، بالغین کے حق میں درست نہیں ہوتی، لہذا اگر مذکورہ طالب علم  بالغ ہو، اور امامت کے بنیادی مسائل سے واقف ہو، اور قرآن تجوید سے پڑھ سکتا ہو تو اس کو فرض نماز میں  امام بنانا جائز ہوگا،بصورتِ  دیگر  اس کو نابالغ بچوں کا امام بناکر مشق کرادی جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 557):

"(قوله: ثم الأحسن تلاوةً و تجويداً) أفاد بذلك أن معنى قولهم أقرأ: أي أجود، لا أكثرهم حفظاً و إن جعله في البحر متبادراً، و معنى الحسن في التلاوة أن يكون عالمًا بكيفية الحروف و الوقف و ما يتعلق بها، قهستاني".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201258
تاریخ25-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں