بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرستان میں قرآن پڑھنا

سوال

کیا قرآنِ  کریم  قبرستان میں پڑھنے  کی اجازت ہے یا ممنوع ہے؟

جواب

قبرستان میں قرآن  مجید پڑھنا جائز ہے اور جس قبر والے کی ایصال ثواب کے لیے پڑھا جارہا ہے،  اس کو اس  سے فائدہ بھی ہوتا ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"والأفضل الدفن في المقبرة التي فيها قبور الصالحين، ويستحب إذا دفن الميت أن يجلسوا ساعة عند القبر بعد الفراغ بقدر ما ينحر جزور ويقسم لحمها،  يتلون القرآن ويدعون للميت، كذا في الجوهرة النيرة.

قراءة القرآن عند القبور عند محمد - رحمه الله تعالى - لا تكره ومشايخنا - رحمهم الله تعالى - أخذوا بقوله وهل ينتفع؟ والمختار أنه ينتفع، هكذا في المضمرات."

(کتاب الجنائز،فصل سادس ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۶۶،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201205
تاریخ24-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں