بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفاس کی حالت میں کھانا پکانا

سوال

نفاس کی حالت میں کھانا پکانا کیسا ہے؟

جواب

نفاس کی حالت میں عورت کھانا پکا سکتی ہے، اس میں کوئی ممانعت نہیں،نفاس کے عمومی احکام یہ ہیں کہ نفاس کی حالت میں عورت کے لیے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے،اور ان ایام میں جونمازیں رہ جائیں ان کی قضابھی عورت کے ذمہ نہیں، ان  ایام میں قرآن پاک کی تلاوت اور بلاحائل اسے چھونا بھی جائز نہیں ہے، البتہ  ان ایام میں  ذکر واذکار کرناجائزہے،مثلاً درود پاک،استغفار ، کلمہ طیبہ،یا کوئی اور وظیفہ پڑھنا یا قرآن مجید میں جو دعائیں آئی ہیں ان کو دعا  کی نیت سے پڑھنا درست ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئاً من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به، كما قدمناه عن العيون لأبي الليث، وأن مفهومه أن ما ليس فيه معنى الدعاء كسورة أبي لهب لا يؤثر فيه قصد غير القرآنية".(1/293)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201169
تاریخ24-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں