بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیشاب کے قطروں کے مریض کی امامت

سوال

 ایک شخص امامت کرتا ہے، لیکن کبھی کبھی رکوع میں جاتے ہوئے انہیں شک ہوجاتا ہے کہ پیشاب کا قطرہ نکل رہا ہے، اب نماز میں تو شلوار نہیں دیکھ سکتا اور نماز کے فورًا بعد تو محراب میں بیٹھ کر بھی شلوار چیک نہیں کی جاسکتی، کیوں کہ لوگ بیٹھے رہتے ہیں اور بعد میں پھر جب دیکھتا ہے تو کبھی کبھی تو شلوار بالکل سوکھی ہوتی ہے ،داغ بھی نظر نہیں آتا اور کبھی کبھی کچھ پانی دیکھتا ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ انہیں کیسے معلوم ہوگا کہ یہ قطرہ نماز کے دوران ہی نکلا ہے یا پھر نماز کے دوران ہی پیشاب کے نالی سے باہر آیا ہے، کیوں کہ جب تک نالی سے باہر نہیں آئے گا تو وضو برقرار رہتا ہے، یہ آدمی پیشاب کے بعد بہت زیادہ غلو بھی کرتا ہے، شرم گاہ تو نچوڑ نچوڑ کر سکھاتا ہے، لیکن پھر بھی کبھی کبھی شک ہوجاتا ہے۔

اس آدمی کے لیے کیا حکم ہے؟ کئی بار ایسا ہوا ہے، لیکن بعد میں دیکھتے ہوئے کپڑے پر آثارنظر نہیں آتے، ایک دو بار نظر آئے  بھی ہیں،  لیکن یہ نہیں پتہ کہ نماز کے دوران ہی نکلا  ہے،  ان نمازوں کا کیا حکم ہوگا اور ایسے شخص کی امامت کا   شرعی  حکم کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب تک پیشاب کے قطرے آنے کا مسئلہ درپیش رہے تب تک امامت موقوف کرکے علاج کروایا جائے، صحت یابی کے بعد دوبارہ امامت شروع کی جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201132
تاریخ23-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں