بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تکبیراتِ تشریق بلند آواز سے کہنا

سوال

تکبیر تشریق با لجہر پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

ایامِ تشریق میں مردوں کے لیے ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ تکبیراتِ تشریق بلند آواز سے پڑھنا واجب ہے، جب کہ خواتین کے لیے پست آواز سے پڑھنا واجب ہے۔

دیکھیے:

امام کے ساتھ تکبیرات تشریق دہرانے کا حکم

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

"ایامِ نحر میں تکبیر تشریق جہرًا کہنی چاہیے:

(سوال ۱۹۰) عید الضحیٰ میں جو ساڑھے تین دن تکبیرات پڑھی جاتی ہیں بعد جماعت کے وہ آہستہ پڑھی جاویں یا بلند آواز سے؟  بینوا توجروا۔

(الجواب)حامداً و مصلیاً ومسلماً!

تکبیر تشریق جہراً اوربلند آواز سے پڑھنا مسنون ہے، و التشریق هو الجھر بالتکبیر. (ھدایہ ج۱ ص ۵۵ باب العیدین)

فلیستحب رفع الصوت به.(شرح النقایہ ج ۱ ص ۱۳۰)

بگویدیک بار بآواز بلند ، یعنی تکبیر تشریق جہراًاور بلند آواز سے کہنی چاہئے ۔(مالا بد منہ ص ۵۱)

لیکن چیخنا اور چلانا اور بتکلف آواز نکالنا مکروہ اور ممنوع ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب۔"

(باب الجمعہ و العیدین، ٦ / ١٨٥، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201128
تاریخ23-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں