بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس کی عید کی نماز قضا ہوگئی اس کی قربانی کا حکم

سوال

اگر کسی کی عید الاضحی کی نما ز رہ گئی تو کیا اس کی قربانی ہو جائےگی؟

جواب

قربانی کے صحیح ہونے کے لیے عید کے دن شہر میں کہیں بھی عید کی نماز کا ادا ہوجانا کافی ہے، جب شہر میں کسی بھی مقام پر عید کی نماز ادا ہوجائے اب  قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہے، بصورتِ مسئولہ  اگر قربانی کرنے والے نے عید کی نماز نہیں پڑھی،یا قربانی کرنے والے سے عید کی نمازقضا  ہوگئی ،یعنی وہ ادا کر ہی نہیں سکا  تب بھی قربانی درست ہوجائے گی۔ البتہ جان بوجھ کر نماز عید کاترک کرنا یا سستی وکاہلی کی وجہ سے نماز کا چھوٹ جانا گناہ کبیرہ ہے، اس پر توبہ واستغفار لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201114
تاریخ23-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں