بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک آدمی کا کئی جانور قربان کرنا

سوال

الگ الگ جانور میں ایک ہی شخص کے نام سے قربانی کر سکتے ہیں کیا؟

جواب

اگر کوئی شخص  ایک جانور کے بجائے کئی جانور ذبح کر لے یا کئی جانوروں میں شریک ہو جائے تو ایسا کرنا درست ہے، ایک سے اُس کی واجب قربانی ادا ہو جائے گی اور بقیہ نفل شمار ہو گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 333):

"قال في الخلاصة: و لو ضحى بأكثر من واحدة فالواحدة فريضة و الزيادة تطوع عند عامة العلماء. و قال بعضهم: لحم، و المختار أنه يجوز كلاهما اهـ. و في التتارخانية عن المحيط: أنه الأصح."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201047
تاریخ22-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں