بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی جانور میں آٹھ آدمی شریک ہوں تو قربانی کا حکم

سوال

ایک بڑے جانور میں سات افراد شریک تھے،  جن  میں سے بعض شرکاء کی قربانی نفل تھی اور بعض کی واجب،  بعد میں معلوم ہوا کہ شرکاء کی مجموعی تعداد آٹھ ہوگئی  تو آیا ایسی صورت میں قربانی ہوئی یا نہیں ؟

جواب

اگر بڑے جانور کی قربانی  میں  متعدد لوگ شریک ہوں تو قربانی کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس جانور میں سات سے زائد افراد شریک نہ ہوں، اگر کسی جانور میں آٹھ افراد شریک ہو جائیں تو کسی کی قربانی درست نہیں ہو گی۔

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 187) :

’’و كذا إذا كان نصيب أحدهم أقل من السبع فإنه لا يجوز عن الكل أيضا لانعدام وصف القربة في البعض وكذا يجوز عن خمسة أو ستة أو ثلاثة ولا يجوز عن ثمانية.‘‘

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (22/ 48):

’’و لايجوز عن ثمانية لعدم النقل فيه وكذا إذا كان نصيب أحدهم أقل من سبع بدنة لا يجوز عن الكل لأنه بعضه إذا خرج عن كونه قربة خرج كله.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201019
تاریخ22-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں