بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کا امامت کی نیت کرنا

سوال

امام کو نماز میں مقتدی کی نیت کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ اگر نیت نہ کی امام نے مقتدی کی تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

امامت کے درست ہونے کے لیے  امامت کی نیت کرنا شرط نہیں ہے، چناں چہ اگر امام صرف اپنی نماز  کی نیت کرے تب بھی اس کی امامت اور لوگوں کی اقتدا درست ہوجائے گی، البتہ امام کو  جماعت کا ثواب اسی وقت ملے گا جب وہ لوگوں کی امامت کی نیت بھی کرے گا۔

واضح رہے کہ نیت در اصل دل کے ارادے کا نام ہے، امام کے دل میں یہ ارادہ اور قصد ہوکہ میں امامت کررہاہوں،(یعنی لوگوں کو نماز پڑھارہاہوں)  اسی ارادے سے امامت کی نیت اور جماعت کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 424):

"(والإمام ينوي صلاته فقط) و (لا) يشترط لصحة الاقتداء نية (إمامة المقتدي)، بل لنيل الثواب عند اقتداء أحد به قبله".

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201017
تاریخ22-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں