بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید کے دن سرمہ لگانا

سوال

عید کے دن کیا سرمہ لگانا سنت ہے؟

جواب

عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز سے پہلے ”سرمہ“ لگانا سنت سے ثابت  نہیں ہے، سرمہ لگانا رات میں لگانا سنت ہے، یہی وجہ ہے کہ  فقہاء کرام نے عید کی سنتوں میں سرمہ لگانے کا ذکر نہیں کیا۔(از عید ین کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا)

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (1 / 200):

"و ندب في الفطر ثلاثة عشر شيئًا: أن يأكل و أن يكون المأكول تمرًا و وترًا و يغتسل و يستاك، و يتطيب، و يلبس أحسن ثيابه و يؤدي صدقة الفطر إن وجبت عليه و يظهر الفرح و البشاشة و كثرة الصدقة حسب طاقته و التبكير و هو سرعة الانتباه و الابتكار و هو المسارعة إلى المصلى و صلاة الصبح في مسجد حيه ... الخ"

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200967
تاریخ21-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں