بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گونگے جانور کی قربانی کا حکم

سوال

گونگے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

جواب

گونگا ہونا جانوروں میں عیب نہیں ہے، اس لیے کہ جانور کے گونگا ہونے سے  جانور کی خوب صورتی، منفعت،یاگوشت میں کسی قسم کا  فرق نہیں ہوتا ،اس لیے گونگے  جانور کی قربانی درست ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلاً ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لايكون بهذه الصفة لايمنع". (42/294)

قط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200966
تاریخ21-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں