بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بانجھ بکری کی قربانی کرنا

سوال

بانجھ بکری کی قربانی کرنا کیسا ہے؟

جواب

بانجھ بکری کی قربانی کرنا جائز ہے۔

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

(سوال ۷۱) بانجھ بکری جو قابل تولد نہیں ہے قربانی کے  لیے جائز ہے یا نہیں ؟
(الجواب)جائز ہے منع نہیں ہے، (۱) ممانعت کا حکم نظر سے نہیں گزرا۔ بانجھ ہونا قربانی کے  لیے عیب نہیں ۔جس طرح جانور کا خصی ہونا اور جفتی سے عاجز ہونا   قربانی کے  لیے عیب نہیں ہے اور بانجھ جانور اکثر لحیم وشحیم ہوتاہے گوشت بھی عمدہ ہوتا ہے ۔بڑی عمر کی وجہ سے تولد بند ہوتو اس کی قربانی بھی جائز ہے ۔فقط  واللہ اعلم بالصواب ۔(ص10/52)

 فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

والعاجز عن الولادۃ لکبرسنھا الخ

(الباب الخامس فی بیان محل اقامۃ الواجب،(ج:۵ ،ص :۲۹۷،ط: ماجدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200944
تاریخ20-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں