بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحوم شوہر کی بیوہ ایک سے زیادہ ہوں تو ان کا حصہ

سوال

 اگر کسی کی دو بیویاں ہوں  اور اس کا  انتقال ہو جائے تو ان بیویوں کو اس کی جائیداد کا کتنا حصہ ملے گا،  جس طرح اگر ایک بیوی ہو تو اس کو آٹھواں حصہ ملتا ہے؟

جواب

شوہر کا انتقال ہوجانے کی صورت میں  بیوہ ایک ہو یا ایک سے زیادہ ہوں،  اگر مرحوم شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو تو ان کو مرحوم شوہر کے ترکہ میں سے چوتھائی حصہ ملے گا،اور مرحوم شوہر کی اولاد ہونے کی صورت میں  ان کو آٹھواں حصہ ملے گا، دونوں صورتوں میں اگر بیوہ ایک سے زیادہ ہوں تو وہ چوتھائی یا آٹھواں حصہ  ہی ان میں برابر تقسیم ہوگا، ہر ایک کو الگ الگ چوتھائی یا آٹھواں حصہ نہیں ملے گا۔

الفتاوى الهندية (6 / 450):

"وَلِلزَّوْجَةِ الرُّبُعُ عِنْدَ عَدَمِهِمَا وَالثُّمُنُ مَعَ أَحَدِهِمَا، وَالزَّوْجَاتُ وَالْوَاحِدَةُ يَشْتَرِكْنَ فِي الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ وَعَلَيْهِ الْإِجْمَاعُ، كَذَا فِي الِاخْتِيَارِ شَرْحِ الْمُخْتَارِ".

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200931
تاریخ20-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں