بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’انشال‘‘ نام کا معنی اور رکھنے کا حکم

سوال

کیا انشال نام رکھنا جائز ہے؟

جواب

’’انشال ‘‘  عربی لغت کے لحاظ سے ہڈی یا ہانڈی سے گوشت نکالنے اور بلند ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ بلندی کا معنی ملحوظ رکھتے ہوئے ’’انشال‘‘ نام رکھنا جائز ہے ، البتہ  اگر بچے کا نام رکھنا ہو تو بہتر یہ ہے کہ اس کے بجائے انبیاءِ  کرام علیہم السلام  یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کے اسماء میں سے یا کسی  ایسے اچھے معنی والے نام کا انتخاب کیا جائے جس میں نامناسب معنی کا احتمال نہ ہو، اور بچی کا نام رکھنا ہے تو صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے یا عربی زبان کا اچھے معنی والا نام رکھ لیا جائے۔

ہماری ویب سائٹ پر اسلامی ناموں کے لحاظ سے مستقل عنوان موجود ہے وہاں سے بھی آپ انتخاب کرسکتے ہیں ۔

المعجم الوسیط میں ہے :

’’( انشال ) ارتفع وهو مطاوع شاله أو شال به‘‘. (1/501) (القاموس الوحید،1652-مصباح اللغات )

تاج العروس (30/ 493)

"ومما يستدرك عليه: أنشل اللحم من القدر إنشالا، انتزعه، وقيل: أنشله: انتهشه بفيه".

لسان العرب (11/ 661)

"نشل: نشل الشيء ينشله نشلا: أسرع نزعه. ونشل اللحم ينشله وينشله نشلا وأنشله: أخرجه من القدر بيده من غير مغرفة. ولحم نشيل: منتشل. ويقال: انتشلت من القدر نشيلا فأكلته. ونشلت اللحم من القدر أنشله، بالضم، وانتشلته إذا انتزعته منها".

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200926
تاریخ20-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں