بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاملہ خاتون کی عدتِ وفات

سوال

حاملہ عورت کا شوہر مرگیا ہے،  اس کی عدت کب پوری ہو جائے گی؟

جواب

حاملہ عورت کی  عدت  وضعِ  حمل (یعنی بچہ پیدا ) ہوتے ہی پوری ہوجائے گی، بچہ پیدا ہونے کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد  ہوگی۔

الفتاوى الهندية (1/ 528):

"وعدة الحامل أن تضع حملها، كذا في الكافي. سواء كانت حاملًا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب، كذا في فتاوى قاضي خان. و سواء كانت المرأة حرةً أو مملوكةً قنّةً أو مدبرةً أو مكاتبةً أو أم ولد أو مستسعاةً مسلمةً أو كتابيةً، كذا في البدائع. و سواء كانت عن طلاق أو وفاة أو متاركة أو وطء بشبهة، كذا في النهر الفائق. و سواء كان الحمل ثابت النسب أم لا، و يتصور ذلك فيمن تزوج حاملًا بالزنا، كذا في السراج الوهاج."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200911
تاریخ20-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں