بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی میں کسی حصہ دار کو تبدیل کرنا

سوال

قربانی کے جانور میں کسی وجہ سے ایک شریک کو نکال کر دوسرا شریکِ کیا تو جائز ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر قربانی کا جانور خریدتے وقت دوسروں کو  شریک کرنے کی نیت تھی  تو اس میں دوسرے لوگوں کو شریک کرنا جائز ہے، اور پھر جن لوگوں کو شریک کیا ہے اگر  ان میں کوئی صاحب نصاب مال دار  شریک اپنی رضامندی سے  اپنا حصہ کسی اور دے دیتا ہے تو یہ جائز ہے، اور اگر وہ شریک غریب ہے تو جانور میں اس کا حصہ متعین ہوگیا ہے اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 304):

'ولو اشترى بقرةً يريد أن يضحي بها، ثم أشرك فيها ستة يكره ويجزيهم؛ لأنه بمنزلة سبع شياه حكماً، إلا أن يريد حين اشتراها أن يشركهم فيها فلا يكره، وإن فعل ذلك قبل أن يشتريها كان أحسن، وهذا إذا كان موسراً، وإن كان فقيراً معسراً فقد أوجب بالشراء فلا يجوز أن يشرك فيها، وكذا لو أشرك فيها ستة بعد ما أوجبها لنفسه لم يسعه؛ لأنه أوجبها كلها لله تعالى، وإن أشرك جاز، ويضمن ستة أسباعها'۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200740
تاریخ18-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں