بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کانٹے چمچ سے کھانے کا حکم

سوال

کانٹے چمچ سے کھاناکھانے کا حکم کیا ہے؟

جواب

کھانا  کھانے کے  آداب میں سے ہے کہ انسان بغیر کسی واسطہ کے اپنے داہنے ہاتھ سے کھائے،  یہی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ عادیہ ہے، البتہ چمچ سے کھانا بھی جائز ہے، شرعاً اس کی ممانعت نہیں، البتہ طبی لحاظ سے چمچہ کے بغیر اپنے ہاتھ سے کھانا کھانے کے ہضم ہونے کے لیے زیادہ مفید ہے،  نیز چمچہ سے کھانے کو ناجائز قرار دینا یا خلافِ سنت قرار دینا بھی درست نہیں۔

البتہ  اگر کسی جگہ براہِ راست ہاتھ سے کھانے کو معیوب سمجھا جائے  یا چمچے / کانٹے وغیرہ سے کھانے کو بڑائی اور تکبر کی وجہ سے اختیار کیا جائے تو ایسی جگہ براہِ راست ہاتھ سے کھانا بہتر ہے۔ لیکن ایسی بات نہ ہو تو چمچے سے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر غذا ایسی ہے کہ چمچے کے بغیر (یعنی براہِ راست ہاتھ سے) کھانے میں حرج و تکلیف ہو تو براہِ راست ہاتھ سے کھانے کے تکلف کی ضرورت نہیں ہے، ایسے موقع پر چمچے سے کھالینا چاہیے۔فقط واللہ اعلم۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200707
تاریخ18-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں