بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایحاب نام رکھنے کا حکم

سوال

میرے نام کا صحیح مطلب آج تک معلوم نہ ہوسکا،  میرا نام والد صاحب نے ”ایحاب“  رکھا جب وہ سعودیہ میں مقیم تھے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میرے نام کے معنی کا آج تک صحیح علم نہ ہوسکا، کوئی ”ایحاب“ کو ”ایہاب“  کہتا ہے اور اس کے مختلف معنی بتاتا ہے، نیز یہ بھی بتائیں کہ اگر نام کے معنی  معلوم نہ ہوسکیں تو یہی نام رکھنا جائز ہے اور اس کے معنی ایحاب والے اخذ کریں یا نام تبدیل کرلیں؟

جواب

 لفظ " اِیحَاب" یا اس مادّے سے کلامِ عرب میں کوئی لفظ ہمیں نہیں مل سکا،  البتہ اس نام  کا صحیح تلفظ " إِيْهَاب"(إِیْهَاب)  ہے ، اور عربی زبان میں اس کے مختلف معنے ہیں:

1- ہدیہ تیار کرنا۔2- کسی چیز کا ہمیشہ ساتھ رہنا ۔3- کسی چیز کو حاصل کرنے پر قدرت دینا وغیرہ ۔

لهذا   ”ایہاب“  نام رکھنا جائز ہے،  اگر یہی نام رکھنا  ہو  ”ایحاب “ کے بجائے ”ایہاب “ نام رکھ لیں۔

لسان العرب میں ہے:

"وأَصْبَحَ فلان مُوهِـباً، بكسر الهاء، أَي مُعِدّاً قادراً.  وأَوهَبَ لك الشيءَ: أَعدَّه. وأَوْهَبَ لك الشيءُ: دامَ.  قال أَبو زيد وغيره: أَوهَبَ الشيءُ إِذا دام، وأَوهَبَالشيءُ إِذا كان مُعَدّاً عند الرجل، فهو مُوهِب:
وأَنشد: عَظِـيمُ القَفا، ضَخْمُ الخَواصِرِ، أَوهَبَتْ * له عَجْوَةٌ مَسْمُونةٌ، وخَمِـيرُ.
* قوله:  «ضخم الخواصر» كذا بالمحكم والتهذيب والذي في الصحاح رخو الخواصر.) وأَوهَبَ لك الشيءُ: أَمْكَنَك أَن تأْخُذَه وتَنالهُ؛ عن ابن الأَعرابي وحده. قال: ولم يقولوا أَوهَبْتُه لك".

(حرف الباء، فصل الواو، ج:1، ص:804، ط:دارصادر)

 فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200704
تاریخ18-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں