بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دودھ دینے والے جانور کی قربانی

سوال

دودھ والے جانور کی قربانی جائزہے؟

جواب

دودھ دینے والے جانور کی قربانی فی نفسہ جائز ہے، البتہ اگر اسے ذبح کرنے کی وجہ سے بچہ کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے قربان کرنا مناسب نہیں، اگرچہ قربانی پھر بھی ہوجائے گی۔نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ اگر قربانی کے جانور کے تھنوں میں دودھ ہے  اور قربانی میں وقت کم ہو تو بہتر یہ ہے کہ دودھ نہ دھویا جائے، اور اگر ابھی کافی وقت ہو اور دودھ نہ دھونے کی صورت میں جانور کو تکلیف ہو ، اس وجہ سے دودھ نکال لیا گیا یا کسی نے لاعلمی میں دودھ دوہ لیا تو اسے صدقہ کردے ، اوراگردودھ نکال کراستعمال کرلیا تواب اس کی قیمت کاصدقہ کرناواجب ہے۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200698
تاریخ18-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں