بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نبی کریم ﷺکی جانب سے قربانی کی منت ماننا

سوال

رسول اللّٰہ صلی علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنے کی منت مانی ہے۔ اب کیا قربانی کرنا ضروری ہے ؟

جواب

نبی کریم ﷺکی جانب سے قربانی کرنے کی منت ماننے کی صورت میں اب قربانی کے ایام میں قربانی کرنا ضروری ہے، نیز ـ منت مانے ہوئے جانور  کا گوشت صرف غریب محتاجوں کو دینا ضروری ہے، خود کھانا اور مال دار آدمیوں کو دینا جائز نہیں ۔

اور اگر ایسی منت ماننے والا شخص قربانی کے ایام میں قربانہ نہ کرسکا اور  قربانی کے دن  گزر گئے تو اس پر لازم ہوگا کہ جتنی قیمت میں ایک متوسط چھوٹا جانور  آجاتا ہے، اتنی قیمت مستحق غریبوں کو صدقہ کرے۔ 

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (10 / 243):

"والواجب منها أنواع : منها ما يجب على الغني والفقير ومنها ما يجب على الفقير دون الغني ومنها ما يجب على الغني دون الفقير أما الذي يجب على الغني والفقير فالمنذور به ؛ بأن قال : لله علي أن أضحي شاة أو بدنة أو هذه الشاة أو هذه البدنة أو قال : جعلت هذه الشاة ضحية أو أضحية وهو غني أو فقير ؛ لأن هذه قربة لله تعالى عز شأنه من جنسها إيجاب وهو هدي المتعة والقران والإحصار وفداء إسماعيل عليه الصلاة والسلام وقيل هذه القربة تلزم بالنذر كسائر القرب التي لله تعالى عز شأنه من جنسها إيجاب من الصلاة والصوم ونحوهما ، والوجوب بسبب النذر يستوي فيه الفقير والغني وإن كان الواجب يتعلق بالمال كالنذر بالحج أنه يصح من الغني والفقير جميعا ".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200695
تاریخ18-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں