بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کان کٹے بکرے کی قربانی کا حکم

سوال

میں نے منڈی سے قربانی کے لیے بکرا خریدا گھر آکر پتاچلا کہ اس کے ایک کان پر زخم ہے،  شک ہے کہ کسی کتے نے  کاٹا ہے۔ علاج کروایا تو زخم بھر رہا ہے ، لیکن مکمل نہیں بھرا، ایسے جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ بکرے کا اگر ایک تہائی سے زیادہ کان کٹا ہوا ہو تو اس صورت میں اس  کی قربانی جائز نہ ہوگی، بصورتِ دیگر جائز ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَلَوْ ذَهَبَ بَعْضُ هَذِهِ الْأَعْضَاءِ دُونَ بَعْضٍ مِنْ الْأُذُنِ وَالْأَلْيَةِ وَالذَّنَبِ وَالْعَيْنِ ذَكَرَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ إنْ كَانَ الذَّاهِبُ كَثِيرًا يَمْنَعُ جَوَازَ التَّضْحِيَةِ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا لَا يَمْنَعُ، وَاخْتَلَفَ أَصْحَابُنَا بَيْنَ الْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ فَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ -رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - أَرْبَعُ رِوَايَاتٍ، وَرَوَى مُحَمَّدٌ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - عَنْهُ فِي الْأَصْلِ وَفِي الْجَامِعِ أَنَّهُ إذَا كَانَ ذَهَبَ الثُّلُثُ أَوْ أَقَلُّ جَازَ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ لَايَجُوزُ، وَالصَّحِيحُ أَنَّ الثُّلُثَ وَمَا دُونَهُ قَلِيلٌ وَمَا زَادَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ ... وَسُئِلَ عَمْرُو بْنُ الْحَافِظِ عَنْ الْأُضْحِيَّةِ إذَا كَانَ الذَّاهِبُ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْ الْأُذُنَيْنِ السُّدُسَ هَلْ يُجْمَعُ حَتَّى يَكُونَ مَانِعًا عَلَى قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ -رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - قِيَاسًا عَلَى النَّجَاسَاتِ فِي الْبَدَنِ أَمْ لَا يُجْمَعُ كَمَا فِي الْخُرُوقِ فِي الْخُفَّيْنِ؟ . قَالَ: لَا يُجْمَعُ".

( كتاب الاضحية، الْبَابُ الْخَامِسُ فِي بَيَانِ مَحَلِّ إقَامَةِ الْوَاجِبِ، ٥ / ۲۹۸، ط: دار الفكر) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200675
تاریخ18-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں