بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں غیر امام کا اجرت لے کر بچوں کو پڑھانا

سوال

امام کے علاوہ اگر کوئی شخص باہر کا مسجد میں بچوں کو اجرت لے کر پڑھاتا ہے تو کیا یہ درست ہے؟  بہشتی زیور حصہ یازدہم میں ناجائز لکھا ہے۔

جواب

مسجد  میں مستقل بنیادوں پر مدرسہ یا مکتب قائم کرنا شرعاً  جائز نہیں،  پھر اگر مجبوراً متبادل جگہ نہ ہونے کی وجہ سے  مسجد میں تعلیم دی جائے تو اجرت لے کر تعلیم دینا درست نہیں، مسجد میں اجرت لے کر  قرآن پڑھانے کو فقہاء نے مکروہ قرار دیا ہے، لہذا اس سے احتراز کرنا چاہیے، یہ حکم امام اور غیر امام کے لیے ہے۔

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کریں:

کیا مساجد میں بچوں کو قرآنی تعلیم دینا جائز ہے؟

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200658
تاریخ17-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں