بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانچ ایکڑ زمین پر زکوۃ کا حکم

سوال

کسی کے پاس  اپنی پانچ ایکڑ زمین ہے اس پر زکوٰۃ  واجب  ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کسی شخص کی ملکیت میں صرف زمین ہو تو اس زمین پر زکوۃ کے وجوب  سے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ  اگر وہ   زمین   رہائش کی نیت سے خریدی  گئی   ہو تو اس پر  شرعاً زکات لازم نہیں،   اسی طرح  اگر    زمین  خریدتے وقت   کوئی نیت نہیں کی ہو (کہ اس کو  بیچنا ہے یا رہائش اختیار کرنی ہے) تو اس پر بھی زکات نہیں ہے، اسی طرح اگر مذکورہ زمین زرعی ہو، اور اس کی آمدن سے گزر بسر ہوتاہو یا کرائے پر دی ہو تو اس زمین کی مالیت پر زکات واجب نہیں ہوگی۔

لیکن اگر زمین  تجارت کی نیت سے لی ہو   اور اب تک تجارت کی ہی نیت ہو تو ایسی  زمین   کی مالیت  اگر نصاب کے بقدر ہو  تو  ہر سال اس کی موجودہ ویلیو کا حساب  کر کے کل کا ڈھائی فیصد بطور زکات ادا کرنا شرعًا لازم  ہوگا۔ اور زرعی زمین ہونے کی صورت میں اس کی پیداوار پر عشر لازم ہوگا۔ اور کرائے پر دینے کی صورت میں جو آمدن حاصل ہو، اگر وہ محفوظ ہوتی ہو تو زکات کا سال پورا ہونے پر جتنی رقم موجود  ہو اس کا ڈھائی فیصد بطورِ زکات ادا کرنا ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 179):

"[الفصل الثاني في العروض]

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنةً ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابًا من الورق والذهب، كذا في الهداية."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200635
تاریخ17-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں