بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جاگنے کی حالت میں انزال کی صورت میں غسل اور ان کپڑوں میں نماز کا حکم

سوال

 اگر گھر سے میں پاک صاف ہو کر غسل کر کےنکلا ہوں اور پھر احتلام ہو جائے،  لیکن قمیص شلوار کے سا تھ (under wear) پہنی  ہوئی ہے تو نہ  تو کپڑے پر  نشان  ہے، نہ   جسم  پر  اوراس وقت اپنے کاروبار کی جگہ پر  ہوں،  ایسی حالت میں نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کو جاگنے کی حالت میں انزال ہوا ہو اور  بلا شہوت ہوا ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس طرح بلا شہوت  انزال  سے غسل   واجب نہیں ہوتا، صرف وضو ٹوٹتا ہے،  اور جس جگہ منی کا اثر ہو  اس کو دھو کر نماز ادا کی جا سکتی ہے، تاہم  اگر یہ انزال شہوت کے  ساتھ ہو تو غسل فرض ہو گا ، باقی اگر  منی انڈر ویئر میں ہی ہے، قمیص شلوار پر   ناپاکی  کا اثر نہیں آیا تو انڈرویئر کو دھوکر پاک کرنا ضروری ہوگا، اور شلوار پر بھی اگر منی کی تری آئی ہے تو اسے بھی  دھو کر پاک کرکے  ان کپڑوں میں نماز ادا کی جا سکتی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 160):

’’ (بشهوة) أي لذة ولو حكمًا كمحتلم.

(قوله: بشهوة) متعلق بقوله: منفصل، احترز به عما لو انفصل بضرب أو حمل ثقيل على ظهره، فلا غسل عندنا خلافًا للشافعي كما في الدرر.(قوله: كمحتلم) فإنه لا لذة له يقينا لفقد إدراكه ط فتأمل. وقال الرحمتي: أي إذا رأى البلل ولم يدرك اللذة؛ لأنه يمكن أنه أدركها ثم ذهل عنها فجعلت اللذة حاصلة حكمًا.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200629
تاریخ17-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں