بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منگنی کی رسم میں نامحرم کو مٹھائی کھلانا

سوال

اگر کوئی  لڑکی منگنی میں رسم کے طور پر کسی نامحرم کو اپنے ہاتھ سے مٹھائی کھلائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

منگنی  نکاح کا وعدہ ہے ، نکاح نہیں ہے، اور نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہوتے ہیں،  ان کا آپس میں ملنا، بات چیت کرنا،ہنسی مذاق کرنا ناجائز ہے، لہذا  منگنی کی تقریب میں  لڑکی کا اپنے ہاتھ سے لڑکے کو مٹھائی کھلانا جائز نہیں ہے ، اسی طرح اس تقریب میں کسی اور نامحرم کو مٹھائی کھلانا بھی جائز نہیں ہے  اور اس رسم سے اجتناب ضروری ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 369):

"ولايكلم الأجنبية إلا عجوزاً عطست أو سلّمت فيشمتها و يرد السلام عليها، وإلا لا۔ انتهى."

(قوله: وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزاً بل شابةً لا يشمّتها، ولا يرد السلام بلسانه۔ قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلّم الرجل أولاً، وإذا سلّمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزاً رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابةً رد عليها في نفسه، وكذا الرجل إذا سلّم على امرأة أجنبية، فالجواب فيه على العكس. اهـ."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200576
تاریخ16-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں