بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذی الحجہ میں بال اور ناخن کاٹنے کے بعد قربانی کا ارادہ کرنا

سوال

اگر پہلے قربانی کی نیت نہیں تھی، مگر بعد میں قربانی کی نیت ہو گئي  اور پہلے بال اور ناخن بھی کاٹ لیے تو اس صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

جس شخص کا قربانی کا ارادہ ہو  اس کے لیے  ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی  کرنے تک  اپنے بال اور ناخن وغیرہ نہ کاٹنا مستحب ہے، لہذا اگر (قربانی واجب نہیں تھی اور)  ابتدا  میں قربانی کا ارادہ نہیں تھا اور بال اور ناخن کاٹ لیے ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔  

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 181):

" وَمِمَّا وَرَدَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يُقَلِّمَنَّ ظُفُرًا» فَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى النَّدْبِ دُونَ الْوُجُوبِ بِالْإِجْمَاعِ"

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200564
تاریخ16-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں