بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذو الحج کے ابتدائی عشرے میں خضاب لگانے کا حکم

سوال

 کیا ذوالحجہ کے دس دنوں میں بالوں پر خضاب لگا سکتے ہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ قربانی کرنے والے افراد کے لیے  ذی الحجہ کا چاند نظر آجانے کے بعد سے لے کر قربانی کرنے تک صرف  جسم  کے بال یا ناخن وغیرہ  نہ کاٹنے کا استحبابی حکم  ہے ، اس کے علاوہ کسی اور چیز سے ممانعت نہیں ہے، لہذا ان ایّام میں بالوں پر خضاب  لگاسکتے  ہیں۔

مرقاة المفاتيح شرح مشکاۃ المصابیح  میں ہے:

"قال التوربشتي: ذهب بعضهم إلى أن النهي عنهما للتشبه بحجاج بيت الله الحرام المحرمين، والأولى أن يقال: المضحي يرى نفسه مستوجبةً للعقاب وهو القتل، ولم يؤذن فيه، ففداها بالأضحية، وصار كل جزء منها فداءً كل جزء منه، فلذلك نهي عن مس الشعر والبشر ؛ لئلا يفقد من ذلك قسط ما عند تنزل الرحمة، وفيضان النور الإلهي، ليتم له الفضائل، ويتنزه عن النقائص".

(کتاب الاضحیة،ج:3،ص:1081،ط:مکتبه امدادیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200515
تاریخ16-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں