بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھوڑے کی قربانی جائز نہیں

سوال

گھوڑے کی قربانی کرناجائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ  قربانی کے جانور شرعی طور پر متعین ہیں، جن میں   اونٹ ،گائے، دنبہ ، بھیڑ ، بکرا،مینڈھا (مذکر ومؤنث ) شامل ہیں،بھینس  گائے  کی ہی ایک قسم ہے،  ان کے علاوہ کسی جانورکی قربانی درست نہیں۔

 لہذا صورتِ  مسئولہ  میں گھوڑے  کی  قربانی  جائز نہیں ہے،نبی کریم ﷺ سے   قولاً یا فعلاً گھوڑے کی قربانی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

(أما جنسه): فهو أن يكون من الأجناس الثلاثة: الغنم أو الإبل أو البقر، ويدخل في كل جنس نوعه، والذكر والأنثى منه والخصي والفحل لانطلاق اسم الجنس على ذلك، والمعز نوع من الغنم والجاموس نوع من البقر، ولا يجوز في الأضاحي شيء من الوحشي، فإن كان متولدا من الوحشي والإنسي فالعبرة للأم، فإن كانت أهلية تجوز وإلا فلا، حتى لو كانت البقرة وحشية والثور أهليا لم تجز.

(کتاب الاضحیہ، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج: 5، صفحہ: 297، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200462
تاریخ15-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں