بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فبیحہ نام رکھنا

سوال

میں نے اپنی بیٹی کا نام ’’فبیحہ‘‘  رکھا ہے،  مگر جب کسی عالم سے پوچھتا ہوں تو کہتا ہے کہ یہ نام صحیح نہیں ہے ، راہ نمائی فرمادیں!

جواب

واضح رہے کہ بچوں کا نام  رکھنے کے معاملہ میں کوشش کرنی چاہیے کہ  انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ  کرام رضی اللہ عنہم یا اللہ کے نیک بندوں کے ناموں پر نام رکھا جاۓ یا  ایسا نام رکھا جاۓ جس کے معانی عمدہ ہوں۔

لہٰذا " فَبِیْہَا"، "فَبِهـا"  یا "فبیحہ" اگرچہ عربی زبان کے الفاظ ہیں، لیکن ان کے خاطر خواہ معانی  نہ ہونے کی وجہ سے مہمل لفظ میں شمار  ہوں گے، لہٰذا یہ نام نہ رکھا جائے۔

اس سے  ملتے جُلتے ناموں میں سے " فارعہ ، فصیحہ ،فاخرہ، فارحہ " ہیں؛  لہٰذا اگر چاہیں تو ان میں سے کسی نام کا انتخاب کرلیجیے۔

نیز جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر اچھے اچھے اسلامی نام درج کردیے گۓ ہیں ، وہاں سے بھی راہ نمائی لی جاسکتی ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200454
تاریخ15-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں