بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جانور کا پیدائشی کان نہ ہو تو قربانی کا حکم

سوال

جس جانور کا کان قدرتی طور پر نہ ہو، اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

جس جانور کا پیدائشی ایک یا دونوں کان نہ ہوں، اس کی قربانی  جائز نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (5 / 297):

"وَ لَاتَجُوزُ الْعَمْيَاءُ وَالْعَوْرَاءُ ... وَمَقْطُوعَةُ الْأُذُنَيْنِ وَالْأَلْيَةِ وَالذَّنَبِ بِالْكُلِّيَّةِ، وَاَلَّتِي لَا أُذُنَ لَهَا فِي الْخِلْقَةِ، وَتُجْزِئُ السَّكَّاءُ وَهِيَ صَغِيرَةُ الْأُذُنِ فَلَاتَجُوزُ مَقْطُوعَةُ إحْدَى الْأُذُنَيْنِ بِكَمَالِهَا وَاَلَّتِي لَهَا إذْنٌ وَاحِدَةٌ خِلْقَةً."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200438
تاریخ15-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں