بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تشہد سے پہلے بھولے سے صرف ’الحمد للہ‘ پڑھا

سوال

میں فجر کی نماز امام کے ساتھ پڑھ رہا تھا،  اُس میں میری ایک رکعت نکل گئی تھی،  امام کے سلام پھیرنے کے بعد میں نے اپنی رکعت مکمل کی،  پھر جب التحیات میں بیٹھا تو غلطی سے صرف  الحَمدُ لله  پڑھا،  پھر  مجھے یاد آگیا،  پھر میں نے التحیات پڑھ لی ، میری نماز ہوگئی یا سجدہ سہو کرنا لازم تھا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سجدہ سہو کرنا لازم نہیں تھا، نماز ہوگئی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 464):

"(قوله: و تعديل الأركان) هو سنة عندهما في تخريج الجرجاني، وفي تخريج الكرخي، واجب حتى تجب سجدتا السهو بتركه، كذا في الهداية. و جزم بالثاني في الكنز و الوقاية والملتقى، وهو مقتضى الأدلة كما يأتي قال في البحر: وبهذا يضعف قول الجرجاني."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 465):

"و أقل الزيادة المفوتة للواجب مقدار: اللهم صل على محمد فقط على المذهب كما سيأتي في الفصل الآتي."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200392
تاریخ15-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں