بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وزن کرکے جانور کی خرید و فروخت

سوال

آج کل وزن کرنے کے بعد جانور قربانی  کے لیے خریدوفروخت کیا جاتا ہے، آیا شرعاً اس کا جواز ہے یا نہیں؟

جواب

موجودہ دور میں بہت سی جگہوں میں یہ رواج ہے کہ  جانوروں کو  وزن کرکے فروخت کرتے ہیں ،  اگر یہ خرید فروخت باہمی رضامندی سے ہو اور جانور کا گوشت وزن کرکے نقد رقم یا غیر جنس کے عوض خریدا جائے تو یہ  جائز ہے اور  ایسی قربانی  بھی بلاشبہ درست ہے، البتہ اِس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ خریدتے ہوئے قربانی ہی کو مقصود اور پیشِ نظر رکھاجائے، گوشت کے حصول کی نیت نہ ہو ۔

( ماہنامہ بینات ذوا لقعدہ ۱۴۲۹ھ۔ قربانی کے مسائل کاانسائیکلوپیڈیا،  ص: 175)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200370
تاریخ14-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں