بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور میں عقیقے کی نیت درست ہونے کی وجہ

سوال

قربانی میں عقیقہ والا شامل ہوسکتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے، جب کہ قربانی واجب ہے؟

جواب

قربانی اور عقیقہ، دونوں میں اللہ کا قرب حاصل کرنے کی نیت ہوتی ہے اور جس بڑے جانور میں حصہ داروں کی نیت اللہ کا قرب حاصل کرنا ہو، اس کی قربانی درست ہوجاتی ہے اور ان کی نیتیں معتبر ہوتی ہیں؛ لہذا ایک بڑے جانور (جس میں سات حصے ہوسکتے ہیں) میں قربانی کے الگ حصے ہوں اور عقیقے کے الگ حصے ہوں تو دونوں حصے رکھنے والوں کی قربانی درست ہوگی اور نیتیں معتبر ہوں گی۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد".

(فتاوی شامی 6/ 326، کتاب الاضحیة، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200360
تاریخ14-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں