بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور میں چار شرکاء کا ایک ایک پایہ لینا

سوال

کیا قربانی میں شریک چار شرکاء کو ثابت  ایک ایک پایہ دے سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں بڑے جانور  (گائے، اونٹ وغیرہ)  میں اگر صرف چار ہی شرکاء ہوں تو ہر ایک کا مکمل ایک ایک  پایہ  لینا جائز ہے۔ 

نیز اگر چار سے زائد شرکاء ہوں، تب بھی دیگر شرکاء کی رضامندی سے کسی چار شرکاء  کو مکمل ایک  ایک پایہ دینا جائز ہے، البتہ تقسیم میں برابری کے لیے جن کو مکمل پایہ دیا جارہا ہے، اس کے بدلے میں دیگر شرکاء کو دوسرے حصوں میں  گوشت زیادہ دے دیا جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 317):

"ويقسم اللحم وزناً لا جزافاً إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد) صرفاً للجنس لخلاف جنسه.

 (قوله: ويقسم اللحم) انظر هل هذه القسمة متعينة أو لا، حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أو لا، والظاهر أنها لاتشترط؛ لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200345
تاریخ14-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں