بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو طلاقوں کے بعد ساتھ رہنے کے متعلق شرعی رہنمائی

سوال

کیا دو بار طلاق دینے سے طلاق ہو جاتی ہےیا اس میں گنجائش ہے؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں دو طلاقیں دینے  سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، البتہ اگر طلاق کے صریح الفاظ میں طلاق دی ہو تو ان دو طلاقوں کے بعد   عدت میں رجوع کیا جاسکتا ہے اور اگر طلاقِ بائن دی ہو یا طلاقِ رجعی کی عدت گزر چکی ہو تو نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کے سامنےدوبارہ نکاح کرنے کے بعد ساتھ رہا جاسکتا ہے۔ ساتھ رہنے کی صورت میں آئندہ صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا، لہٰذا آئندہ بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

الفتاوى الهندية (1 / 472):

" إذا كان الطلاق بائنًا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200337
تاریخ14-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں