بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذو الحجہ کے دس دنوں میں بال اور ناخن کاٹنے والے کی قربانی کا حکم

سوال

 کیا اگر ذی الحجہ کا چاند نظر آئے اور پھر بھی بال وغیرہ کاٹے تو قربانی ہوگی  یا نہیں؟  اور کیا گناہ گار ہوگا یا نہیں؟

جواب

قربانی کرنے والے کے لیے ذو الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی تک ناخن اور بال نہ کاٹنا  مستحب ہے،  ایسا نہ کرنے والے کی قربانی ادا ہوجاتی ہے اور وہ گناہ گار  بھی نہیں ہوتا۔ ملحوظ رہے کہ مستحب اعمال پر اصرار کرنا اور نہ کرنے والوں پر نکیر کرنا درست نہیں ہے، بلکہ جہاں مستحب کو لازم سمجھا جائے، وہاں کبھی مستحب عمل کو ترک بھی کرنا چاہیے۔

جامع ترمذی میں ہے:

''عن أم سلمة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من رأى هلال ذي الحجة و أراد أن يضحي فلا يأخذن من شعره و أظفاره''. (١/ ٢٧٨، ط: سعيد)

''العرف الشذی'' میں ہے:

''و مسئلة حديث الباب مستحبة، و الغرض التشاكل بالحجاج''. (١/ ٢٧٨، ط: سعيد) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200320
تاریخ14-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں