بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے چندہ سے رقم منتقلی پر آنے والے اخراجات ادا کرنا

سوال

 کوئی شخص اسلام آباد  کی کسی مسجد کے لیے کراچی میں چندہ جمع کرے اور پھر وہ چندہ اسلام آباد بھیجنے پر جو خرچ آئے وہ اس چندہ سے ادا  کر سکتا ہے  یا  نہیں؟

جواب

مسجد کے لیے جو  چندہ  دیا جاتا ہے، وہ درحقیقت تعمیرات مسجد کے لیے ہوتا ہے، کیوں  کہ جمع کرنے والے تعمیراتِ  مسجد کے نام پر ہی جمع کرتے ہیں، اور دینے والوں کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے، لہذا مسجد کے  لیے جمع شدہ چندہ  مسجد  کی تعمیر و  مصارف کے علاوہ کسی اور مقصد میں خرچ کرنے کی شرعًا اجازت نہیں،  پس مسئولہ صورت میں اس رقم کی منتقلی پر آنے والے اخراجات کی ادائیگی  چندہ کی رقم سے کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200286
تاریخ13-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں