بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلے بیٹوں سے پردہ نہیں وہ محارم میں سے ہیں

سوال

ایک عورت کی شادی ایک ایسے مرد سے ہورہی ہے جس کی پہلی بیوی سے بھی بیٹے اور بیٹیاں ہیں جن میں سے بعض کی شادی بھی ہو چکی ہے۔ اب پردہ کے متعلق کچھ سوالات ہیں:

1۔۔ کیا عورت کا سوتیلے بیٹوں سے پردہ ہوگا؟

2۔۔ کیا اس عورت کی ماں اور بہن کا عورت کے سوتیلے بیٹے سے پردہ ہوگا؟

3۔۔ کیا اس عورت کے باپ اور بھائی کا اس عورت کی سوتیلی بیٹی سے پردہ ہوگا؟

4۔۔ کیا اس عورت کی سوتیلی بیٹی کے شوہر سے اس عورت کا پردہ ہوگا ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں صرف  پہلی صورت  میں (یعنی شوہر کے بیٹے/ سوتیلے بیٹے) محارم  ہیں،   باقی تینوں صورتوں میں غیر محارم  ہیں،  ان  کا آپس میں پردہ ضروری ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200057
تاریخ11-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں