بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچہ کی طرف سے قربانی کرنے کی صورت میں قربانی سے پہلے اس کے بال اور ناخن کاٹنا

سوال

اگر کوئی اپنے بچے کے نام کی قربانی دینا چاہتا ہو  اور بچہ   2یا 3 سال کا ہو تو بچے کے بال ناخن کاٹنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

قربانی کرنے والے کے لیے  ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب ہے، یہ حکم فرض یا واجب نہیں ہے، نیز  چھوٹا بچہ احکامات کا مکلف بھی نہیں ہوتا، لہذا  صورتِ  مسئولہ میں  بچے  کی طرف سے  اگرچہ قربانی کی جارہی ہو تب بھی اس کے بال اور ناخن کاٹنا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200020
تاریخ11-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں