بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاملہ جانور کو ذبح کرنے کا حکم

سوال

قربانی کا جانور پانچ ماہ کا حمل سے ہے ؟ رہنمائی فرمائیں کہ قربانی کرنا کیسا ہے؟

جواب

حاملہ یا گابھن جانور کا ذبح کرنا جائز ہے،تاہم اگر بچے کی ولادت بالکل قریب ہو تو اس کو ذبح کرنا مکروہ ہے۔

ذبح کرنے کی صورت میں اگر جانور کے پیٹ سے بچہ زندہ نکل آئے تو اس کو بھی ذبح کردیا جائے اور اس کا گوشت بھی حلال ہوگا،اور اگر مردہ بچہ نکل آئے تو اس کا گوشت استعمال کرنا جائز نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’شاة أو بقرة أشرفت على الولادة، قالوا: يكره ذبحها؛ لأن فيه تضييع الولد‘‘.(287/5)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201715
تاریخ10-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں