بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈاکٹر کا زانیہ کے حمل کو ساقط کرنا

سوال

ڈاکٹر کے لیے زانیہ کے حمل کو بسبب بدنامی ساقط کرناکیسا ہے؟

جواب

زنا شریعت میں انتہائی مذموم عمل اور حرام ہے، ایسے افراد پر صدق دل سے توبہ واستغفار اور آئندہ اس عمل سے باز  رہنے کا پکا عزم کرنا لازم ہے۔زنا کی وجہ سے اگر حمل ٹھہرجائے اور ابھی حمل میں جان نہیں پڑی، یعنی چار  ماہ  سے کم کم کا حمل ہے تو  ڈاکٹر کے لیے اس حمل  کے ساقط کرنے کی گنجائش ہے،اور اگر حمل میں جان پڑگئی ہو یعنی چار ماہ سے زائد کا حمل ہوتو اس صورت میں حمل ساقط کرنا اور ڈاکٹر کا اس میں معاون بننا جائز نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية - (356/ 5):

"العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لايجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201705
تاریخ10-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں