بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوسرے بینک کے اے ٹی ایم یا کسی اور سہولت کے ذریعے اپنے بینک کے پیسے نکلوانے کی اجرت

سوال

Debit card اگر میرا اکاؤنٹ میزان میں  ہے اور میں پیسے کسی دوسرے اکاؤنٹ سے نکلواؤں تو 18-20 روپے زائد کٹ جاتے  ہیں، کیا یہ جائز  ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جب کہ دوسرے بینک کے اے ٹی ایم یا کسی اور سہولت کے ذریعے اپنے بینک کے پیسے نکلوانے جاتے ہیں ،اگر اس صورت میں دوسرے بینک والے اس سہولت کے فراہم کرنے کے سروس چارجز لیں تو  یہ  شرعًا درست ہے۔

الہدایۃ شرح البدایۃ میں ہے:

"الإجارة عقد على المنافع بعوض لأن الإجارة في اللغة بيع المنافع."

(كتاب الإجارة، ج:3، ص:231، ط:المكتبة الإسلامية)

فتاوی شامی میں ہے:

"كلّ قرض جرّ نفعًا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن."

(مطلب كلّ قرض جرّ نفعًا حرام، ج:5، ص:166،ىط:ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201678
تاریخ10-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں