بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیرعوض خلع کا حکم

سوال

 خلع لینے والی عورت  جہیز واپس لے سکتی ہے؟جب کہ خلع کے  بدلے میں کسی قسم کی نقدی یا کوئی اور مال جائیداد بھی نہ دی ہو،  کیا شرعی خلع ہو جائے  گی؟

جواب

شادی کے موقع  پر جہیز کا جو سامان  عورت کو دیا جاتا  ہے  اس کی مالک عورت ہی ہوتی ہے،  سسرال والوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا،  لہذا   اگر کسی عورت  نے اپنے شوہر سے سے خلع  لیا ہو  تو شوہر خلع کے عوض  اُسی  چیز کا مستحق ہوگا جو چیز باہمی رضامندی سے سے طے کی گئی ہو، عورت کی اجازت کے بغیر اس  کا جہیز  کا سامان رکھ لینا  شوہر  کے لیے جائز  نہیں ہوگا، بلکہ اگر قصور شوہر کا ہو  تو ایسی صورت میں  خلع کے عوض کوئی چیز لینا بھی شو ہر کے لیے درست نہیں، عوض  کے بغیر بھی خلع  درست ہو جائے گا۔  نیز ذہن نشین رہے کہ خلع عام طور پر مہر کے عوض ہوتا ہے، نہ کہ جہیز کے سامان کے عوض۔

الفتاوى الهندية (1/ 491):

"و لو قال: اخلعي نفسك، فقالت: خلعت نفسي منك و أجاز الزوج جاز بغير مال."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201670
تاریخ10-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں