بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سالی سے زنا سے نکاح ختم نہیں ہوتا

سوال

اگر سالی کے ساتھ کسی نے زنا کیا تو اس کابیوی سے نکاح ختم ہوجاتاہے یانہیں ؟

جواب

زنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے خواہ کسی کے  ساتھ ہو، لہٰذا سالی کے ساتھ زنا بھی کبیرہ گناہ ہے جس پر فوری طور پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہے، نیز سالی اور بہنوئی اور اس طرح کے وہ رشتے جن میں پردہ نہ کرنے کی وجہ سے گناہ میں واقع ہونے کا امکان رہتاہے، ان سے زیادہ اہتمام کے ساتھ پردہ کرنا واجب ہے، رسول اللہ ﷺ نے دیور وغیرہ سے پردے کی تاکید کرتے ہوئے اسے موت سے تشبیہ دی ہے۔ تاہم سالی سے زنا کی وجہ سے بیوی سے نکاح ختم  نہیں ہوگا،لیکن آئندہ  مذکورہ شخص  کو اپنی سالی سے پردہ کرنا ضروری ہوگا، اور سالی سے تعلق کے بعد جب تک اسے ایک مرتبہ ایام نہ آجائیں بیوی سے قربت کی اجازت نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 34):

"و في الدراية عن الكامل: لو زنى بإحدى الأختين لايقرب الأخرى حتى تحيض الأخرى حيضةً، و استشكله في الفتح، و وجهه أنه لا اعتبار لماء الزاني، و لذا لو زنت امرأةً رجل لم تحرم عليه و جاز له وطؤها عقب الزنا. اهـ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201654
تاریخ10-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں