بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبروں پر بکریاں چرانا

سوال

کیا قبروں پر بکری  چرنے سے قبر کی بے حرمتی ہوتی ہے؟

جواب

اگر بکریاں از خود قبرستان میں قبروں پر چرتی ہوں تو  (بکریاں چوں کہ غیر ذوی العقول اور غیر مکلف  ہیں)  اس کو قبر کی بے حرمتی نہیں کہا جائے گا، لیکن اگر باقاعدہ بکریاں چرانے والا بکریوں کو قبروں پر چراتا ہو تو یہ  اس کی طرف سے بے حرمتی شمار ہو گی  اور  اس سے اجتناب کرنا ضروری ہو گا، نیز قبرستان کی گھاس وغیرہ عام طور پر وقف ہوتی ہےاور وقف اشیاء کو ذاتی استعمال میں لانا بھی درست نہیں، اس لیے بھی یہ فعل لازم الترک ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201610
تاریخ09-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں