بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جانور کو خصی کرنا

?سوال

جانور کو خصی کرنا کیسا ہے؟ اگر کوئی شخص یہ کام پیسہ لے کر  یا فری میں کرتا ہو!

✓جواب

جانور کو خصی کرنا جائز ہے، اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں، بس یہ خیال رہے کہ اس عمل کے دوران جانور کو کم از کم تکلیف ہو، اگر کوئی یہ کام کرتا ہو اور یہ اس کا پیشہ ہو  تو وہ اس کے عوض پیسے بھی لے سکتا ہے، اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 388):

"(و) جاز (خصاء البهائم) حتى الهرة."

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

" جانور کا خصی ہونا عیب نہیں ہے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے خصی جانور کی قربانی فرمائی ہے ،مشکوٰۃ شریف میں ہے:  عن جابر رضي الله عنه قال: ذبح النبي صلى الله علیه و سلّم یوم الذبح کبشین أملحین موجوئین الخ نبی کریم ا نے قربانی کے دن دو چتکبرے (سیاہ وسفید رنگ والے) سینگ والے خصی مینڈھوں کی قربانی فرمائی۔"

(مشکوٰۃ شریف ص ۱۲۸ باب الا ضحیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144211201605
تاریخ09-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں