یسریٰ نام رکھنا
سوال
کیا یسرا اور یسری کے معانی میں فرق ہے؟ اور کس طرح لکھنا بہتر ہے؟
جواب
"یسرا " مصدر ہے، جو اصل میں "یُسْرًا" ہے، اور وقف کی حالت میں "یُسْرَا" پڑھا جاتاہے، اور "یُسْریٰ" مؤنث کا صیغہ ہے۔ "یسری" کے معنی آسانی اور سہولت کے ہیں،لڑکی کا نام رکھا جاسکتا ہے، قرآن عظیم میں یہ لفظ جنت کے لیے استعمال ہوا ہے ۔
معارف القرآن مفتی شفیع اعظم 761/8 میں ہے :
"یسری کے لفظی معنی آسان اور آرام دہ چیز جس میں مشقت نہ ہو، مراد اس سے جنت ہے ۔"
لڑکی کا نام رکھنا ہو تو یسری ٹھیک ہے ۔ الف کے ساتھ مناسب نہیں ۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

