مسبوق کا امام کے پہلے سلام کے بعد سلام پھیرنا
سوال
فتویٰ نمبر143908200468 میں تیسری صورت کی وضاحت فرمادیں امام صاحب ایک جانب سلام پھیرے اس کے بعد مسبوق سلام پھیرے تب سجدہ سہو لازم ہوگا یا امام کے دونوں سلاموں کے بعد مسبوق سلام پھیرے تب سجدہ سہو لازم ہوگا؟
جواب
پہلے سلام کے بعد نماز ختم ہوجاتی ہے، البتہ امام کی متابعت میں امام کے دوسرے سلام سےپہلے بغیر کسی عذر کے مقتدی مدرک کا سلام پھیردینا مکروہ ہے۔
لہذا سابقہ ( فتویٰ نمبر143908200468) کے جواب کی تیسری صورت میں مسبوق اگر امام کے ایک سلام کے بعد سلام پھیر دے گا تو اس پر سجدہ سہو لازم ہوجائے گا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 525):
"و تنقطع به التحريمة بتسليمة واحدة برهان وقد مر وفي التتارخانية ما شرع في الصلاة مثنى فللواحد حكم المثنى، فيحصل التحليل بسلام واحد كما يحصل بالمثنی."
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

