بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

سوال

ایک وقت میں تین طلاقیں دینے سے کتنی طلاقیں  ہوں گی، ایک یا تین؟ جب کہ طلاق دینے والے کا ارادہ تین ہی کا ہو۔

جواب

بصورتِ مسئولہ ایک وقت  میں تین طلاق دینے سے تین طلاق ہی واقع  ہوں گی، البتہ اگر نکاح کے بعد بیوی کے ساتھ خلوتِ صحیحہ (تنہائی میں ملاقات) نہ ہوئی ہو اور تین طلاق الگ الگ الفاظ سے دی جائیں تو پہلی طلاق سے ہی بیوی بائن ہوجائے گی، اور اس کے بعد دو طلاقیں واقع نہیں ہوں گی۔

بدائع الصنائع  فی ترتیب الشرائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضًا حتى لايجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر".

(کتاب الطلاق، ج:3، ص: 187، ط:ایچ ایم سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201421
تاریخ07-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں