دو، ڈھائی یا تین ڈسمل زمین خریدنے کا حکم
سوال
ہمارے یہاں پرانے لوگ کہتے ہیں کہ دو ڈسمل زمین خریدنا درست نہیں ہے، بلکہ اُسے ڈھائی یا تین کر لو ۔ تو کیا زمین کے خریدنے کے بارے میں شریعت میں ایسا کوئی مسئلہ ہے ؟
جواب
شریعتِ مطہرہ کی رو سے زمین کی خرید و فروخت درست ہونے کے لیے کسی خاص مقدار کی قید یا ممانعت موجود نہیں، زمین بیچنے والا اور خریدار آپس کی رضامندی سے جتنی مقدار چاہیں زمین خرید اور بیچ سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144211201357
تاریخ06-07-2021

